15-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے قبائلی علاقوں سے سکولوں کی بندوبستی علاقوں میں منتقلی کے خلاف دائر رٹ پر جاری  حکم امتناعی میں توسیع  کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے اس ضمن میں جواب طلب کرلیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ  جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس محمد ایوب خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر الگ الگ رٹ درخواستوں کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ  قبائلی علاقہ جات اور ایف آرز میں قائم دو سو سے زائد سکولوں کو بندوبستی علاقوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ جس کے باعث نہ صرف طلباء متاثر ہوں گے بلکہ اساتذہ کو بھی دیگر علاقوں میں منتقل کیا جائے گا اور اس طرح پورا تعلیمی نظام متاثر ہوگا لہذا اس فیصلہ کو کالعدم قرار دیا جائے ۔دوران سماعت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کوبتایا کہ یہ سکول بندوبستی علاقوں میں ہیں جو فاٹا سیکرٹریٹ  کے زیر نگرانی چل رہے ہیں اور اب صوبائی حکومت ان سکولوں کو اپنی تحویل میں لے رہی ہے اور ان سکولوں کو نوٹس جاری کئے گئے ہیں ۔عدالت نے صوبائی حکومت کی جانب سے اس ضمن میں تاحال کمنٹس داخل نہ ہونے پر جاری حکم امتناعی میں توسیع کر دی اور سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کرتےہوئے جواب طلب کر لیا۔