02-06-2017

پشاور ہائی کور ٹ نے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقہ جات میں قاَئم مختلف صنعتوں سے بجلی کے بلوں میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس وصولی کے خلاف جاری کردہ حکم امتناعی میں توسیع کرتے ہوئے ایف بی آر اور ٹیسکو حکام سے جواب طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل د ورکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزاروں کی صنعتیں قبائلی علاقہ جات میں واقع ہیں جہاں پر انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے قوانین لاگو نہیں ہیں تاہم فروری دو ہزار سترہ کے بجلی بلوں میں انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس بھی متعلقہ یونٹوں سے طلب کئے گئے ہیں جو کہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہے لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ ان کی وصولی کالعدم قرار دی جائے ۔