15-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے قدیمی  کریم پورہ بازار میں تاریخی مندر منہدم کرنےکے خلاف دائر پر جاری حکم امتناعی میں توسیع کر دی اور صوبائی حکومت  او محکم اوقاف کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیاہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس محمد ایوب خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ پشاور کے قدیمی کریم پورہ بازار میں واقع محکمہ ونگڑی گراں میں تاریخی مندر محکمہ اوقاف کی زیر نگرانی ہے جو محکمہ نے قادر نامی شخص کو لیز پر دے رکھا ہے اور اس مندر کی دیواریں منہدم کر دی گئی ہیں اور اب اس مقام پر کمرشل پلازہ بنایا جا رہا ہے جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے کیونکہ اس مندر کو محکمہ آرکائیوز قومی ورثہ قرار دے چکا ہے اور یہ انتہائی اہمیت کا حامل تاریخی مندر ہے لہذا مندر کی مسماری روکی جائے اور اس کی تاریخی حیثیت اصل حالت میں بحال کی جائے ۔

اس موقع پر قادر خان نامی شخص نے رٹ میں پارٹی بننے کی درخواست دی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ مندر کی خستہ خالی کے باعث اسے مسمار کرکے تعمیر نو کی جا رہی ہے جبکہ محکمہ اوقاف نے اسے تئیس فروری دو ہزار سولہ کو  مسمار ی کی باقاعدہ اجازت دی گئی ہے ۔عدالت نے رٹ پٹیشن میں جاری حکم امتناعی میں توسیع کر دی اور سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کرتے ہوئے صوبائی حکومت اور محکمہ اوقات کے حکام سے جواب طلب کر لیا۔