12-04-2018

چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے 2008 سے 2018 تک کے تمام ایم ڈیز کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے قومی ایئرلائن کی نجکاری سے متعلق وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بنچ نے پی آئی اے کی نجکاری اور آڈٹ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔پی آئی اے کے وکیل نے ادارے کا  9 سال کا آڈٹ ریکارڈ عدالت میں پیش کیا اور عدالتی استفسار پر عدالت کوبتایا کہ اس وقت مارکیٹ میں پی آئی  اے کی فی شیئر قیمت 5 روپے ہے۔عدالتی استفسار پر وکیل قومی ایئر لائن نے  سپریم کورٹ  کو آگاہ کیا کہ 2013 میں پی آئی اے کو لگ بھگ 44 ارب روپے، 2014 میں 37 ارب روپے، 2015 میں 32 ارب روپے، 2016 میں 45 ارب روپے اور 2017 میں 44 ارب روپےکا نقصان ہوا۔ عدالت نے  حکم دیا کہ پی آئی اے کے 2008 سے 2018 تک کے ایم ڈیز کے نام ای سی ایل میں ڈالے جائیں، ہم ایک کمیشن بنا رہے ہیں تاکہ معاملے کی تحقیقات ہو۔