19-04-2017

پشاور ہائی کورٹ نے قومی کمیشن برائے انسانی ترقی کے تحت کام کرنے والے اساتذہ کی برطرفی کے خلاف دائر رٹ درخواست پر وفاقی حکومت کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا ہے ۔

پشاور ہائی کورٹ میں دائر رٹ پٹیشن میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار دو ہزار دو سے این سی ڈی کے تحت سکولوں میں پڑھانے کےلئے مقرر ہوئے اور دو ہزار تیرہ تک وہ اڑھائی ہزار روپے ماہانہ کے عوض کام کرتے رہے تاہم وفاقی کابینہ نے دو ہزار تیرہ میں ان ملازمین کا ماہانہ وظیفہ بڑھانے کا اعلان کیا گیا تاہم ان ملازمین کے وظیفہ میں اضافہ کی بجائے انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا جو درست نہیں کیونکہ یہ ملازمین کئی سال سے انتہائی کم اجرت پر کام کرتے رہے لہذا ان کی برطرفی کالعدم قرار دی جائے ۔