10-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے عدالتی احکامات کے باوجود لاپتہ افراد سے متعلق جامع پالیسی تیار نہ کرنے پر سیکرٹری دفاع ، داخلہ اور صوبائی سیکرٹری ہوم و قبائلی امور کو طلب کر لیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاو رہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے لاپتہ شہری سے متعلق رٹ درخواست کی سماعت کی اس موقع پر چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی نے ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا عبدالطیف یوسفزئی ، ڈپٹی اٹارنی جنرل مسرت اللہ  سے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے عدالت نے سیکرٹری دفاع ، داخلہ کوصوبائی سیکرٹری ہوم کے ساتھ بیٹھ کر لاپتہ افراد سے متعلق ایک جامع پالیسی تیار کرنے کا حکم دیا تھا کیوںکہ کئی کیسز  سالوں سے صرف جواب  نہ ہونےکے باعث التواء کا شکار ہیں جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے  عدالت کو بتایا کہ اس حوالے سے بہت جلد اجلاس طلب کیا جائے گا لیکن چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے کہا کہ عدالت پہلے ہی اس ضمن میں احکامات جاری کر چکی ہے لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا لہذا اب تینوں اعلی افسران عدالت میں پیش ہوں ۔ ان احکامات کے ساتھ ہی فاضل عدالت نے مزید سماعت سولہ فروری تک ملتوی کردی۔