03-03-2017

پشاور ہائی کورٹ کو بتایا گیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے لاپتہ افراد کے مقدمات کےلئے خیبر پختونخوا سے صوبائی سیکرٹری داخلہ کو فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے جس کا نمائندہ ڈائریکٹر لیگل محکمہ داخلہ ، پشاور ہائی کورٹ میں باقاعدہ نمائندگی کےلئے پیش ہوگا ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بن بنچ نے لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی ۔ چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ نے عدالت میں موجود وزارت دفاع ، داخلہ اور صوبائی حکومت کے نمائندے سے استفسار کیا کہ عدالت نے لاپتہ افراد سے متعلق کیسز میں مختلف گائیڈ لائن دی تھیں جس کی رو سے کئی سال سے زیر التوء مقدمات کو نمٹایا جا سکے ۔ عدالت نے ان سے یہ استفسار بھی کیا کہ وفاقی سیکرٹری داخلہ ، دفاع اور صوبائی سیکرٹری داخلہ و قبائلی امور نے جو میٹنگ کی تھی اس کے کیا نتائج آئیں ہیں جس پر عدالت کوبتایا گیا کہ تینوں سیکرٹریوں کے مابین میٹنگ میں طے پایا گیا ہے کہ صوبائی سیکرٹری داخلہ لاپتہ افراد سے متعلق کیسز میں پشاور ہائی کورٹ میں بحیثیت فوکل پرسن نمائندگی کریں گے جبکہ عدالتوں میں سیکرٹری داخلہ کا نمائندہ ڈائریکٹر لیگل سیل پیش ہوگا ۔

عدالت نے ہدایت جاری کی کہ جب کسی کیس میں لاپتہ شخص انٹرمنٹ سنٹر میں موجود ہو اور اس کے رشتہ دار اس بات کی تصدیق کریں کہ وہ کسی بھی انٹرمنٹ سنٹر میں موجود ہے تو پانچ روز کے اندر اندر اس بارے میں رپورٹ عدالت میں جمع کرنا لازم ہوگا جبکہ پرانے کیسز جس میں گزشتہ تین سال سے کوئی پیش رفت نہیں ہوئی اور تاحال لاپتہ ہو ں تو اس سے متعلق کیسز میں تیس یوم کے اندر یہ جواب دینا ہوگا کہ یہ متعلقہ ایجنسیوں کے پاس ہیں یا نہیں اور اگر ہیں تو اس کا کیس کس سٹیج پر ہے ۔

عدالت نے ان ہدایات کے ساتھ ہی لاپتہ افراد سے متعلق درخواستوں کی سماعت سات مارچ تک ملتوی کردی ۔