08-02-2017
پشاور ہائی کورٹ نے مبینہ طور پر انٹرنمنٹ سنٹر لکی مروت میں موجود خاصہ دار فورس کے اہلکار کی موجودگی سے متعلق متعلقہ حکام سے کل تک جواب طلب کر لیا ہے ۔
چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزارہ کے بیٹے خان سید کو دو ہزار گیارہ میں موسی زئی اڈہ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حراست میں لیا حالانکہ وہ خود بھی خاصہ دار فورس کا اہلکار ہے اور چھ سالوں تک لاپتہ رہنے کے بعد انہیں پتہ چلا ہے کہ وہ انٹرمنٹ سنٹر لکی مروت میں موجود ہے مگر متعقلہ حکام انہیں نہ تو ملنے دے رہے ہیں اور نہ ہی یہ تصدیق کر رہے ہیں کہ وہ انٹرمنٹ سینٹر میں موجود ہیں کہ نہیں ۔عدالت نے کہا کہ کل جمعرات کے روز تک اس حوالے سے مکمل رپورٹ پیش کی جائے کیونکہ پہلے ہی کمشنر بنوں نے اس حوالے سے مراسلہ ارسال کر دیا ہے ۔ عدالت نے ان احکامات کے ساتھ ہی دائر رٹ کی سماعت جمعرات کے روز تک ملتوی کردی۔