06-04-2017

پشاور ہائی کورٹ نےنیشنل ہائی وے اتھارٹی اور خیبر پختونخوا حکومت کو حکم دیا ہے کہ لکی مروت تاڈیرہ اسماعیل خان سڑک کو دو رویہ کھولا جائے کیوںکہ ون وے ٹریفک کے باعث شاہراہ پر سنگین نوعیت کے حادثات رونما ہو سکتے ہیں ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کے درمیان ہائی وے کو متعدد مقامات پر ٹریفک کےلئے بند کیا گیا ہے اور ایک ہی سڑک پردونوں جانب سے ٹریفک آنے کے باعث وہاں پر شدید مسائل درپیش ہیں جبکہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی اس حوالے سے کوئی ٹھوس اقدام نہیں کر رہی اور آئے روز ٹریفک حادثات رونما ہو رہے ہیں۔

عدالت نے نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے وکیل سمیت ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اور ڈپٹی اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ وہ اپنے متعلقہ محکموں کو عدالتی حکم سے متعلق آگاہ کریں اور یہ سٹرک فی الفور دو رویہ کھولا جائے جبکہ صوبائی حکومت  اس بات کی نگرانی کرے گی کہ وہاں ٹریفک  کو دو رویہ رواں دواں رکھا جائے اور متعلقہ ادارے پندرہ یوم کے اندر اس حوالے سے پراگریس رپورٹ عدالت میں پیش کریں کہ عدالتی حکم پر کتنا کام ہوا ہے ۔