19-09-2017

لاہور ہائیکورٹ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی جوڈیشل انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے سے متعلق درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا ہے۔ سرکاری وکیل نے درخواست فل بنچ کو بھجوانے کی استدعا کر دی۔

 لاہور ہائیکورٹ میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر لانے سے متعلق درخواست کی سماعت  جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے کی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ٹریبونل عوامی مفاد میں بنایا گیا مگر رپورٹ اب تک چھپا رکھی ہے۔

سرکاری وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ اس رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا کوئی فائدہ نہیں، حکومت نے یہ انکوائری اپنی معلومات کے لیے کروائی تھی۔ عدالت نے استفسار کیا کہ جب والدین جاننا چاہتے ہیں کہ بچے کیسے مارے گئے تو آپ کیسے روک سکتے ہیں، متاثرین کو اپنے بچوں کے قاتلوں کا پتا تو ہونا چاہیے۔ سرکاری وکیل نے درخواست فل بنچ کو بھجوانے کی استدعا کر دی، عدالت نے درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا۔