02-08-2017

پشاور ہائی کورٹ نے محکمہ انٹی کرپشن کو لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ٹیکنالوجسٹ کو ہراساں کرنے سے روک دیا ہے جبکہ درخواست گزار کو محکمے کو تمام ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایات جاری کردی ہے ۔

جسٹس روح الاآمین خان اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزار فلک نیاز کی جانب سے جاری رٹ درخواست کی سماعت کی ۔

دائر رٹ میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار لیڈی ریڈنگ ہسپتال میں گریڈ سترہ میں ٹیکنالوجسٹ تعینات ہے اور دو ہزار تیرہ میں اس کی ترقی ہوچکی ہے جبکہ ہسپتال ہی کے دوسرے ملازم غلام فاروق کا موقف ہے کہ درخواست گزار نے جعلسازی پر ترقی حاصل کی ہے اور اس نے انٹی کرپشن کو درخواست دی ہے حالانکہ درخواست گزار کو ترقی باقاعدہ ضابطے پورے ہونے پر دی گئی ہے اور محکمہ انٹی کرپشن اسے بلاجواز طور پر ہراساں کر رہی ہے ۔