31-01-2017

پشاور ہائی کورٹ نے محکمہ تعلیم اور اراضی مالکان  کے مابین ہونے والے معاہدے کی قانونی حیثیت سےمتعلق چودہ روز میں جواب طلب کرلیا ہے۔

جسٹس قیصر رشید اورجسٹس قلندرعلی خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نےمحکمہ تعلیم کی جانب سے سکول کےلئے اراضی فراہم کرنے کے عوض ملازمت دینے کے اقدام کے خلاف دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی ۔دائر رٹ میں موقف اپنایا گیا کہ محکمہ تعلیم میں چہتر خالی آسامیاں سکولوں کے قیام کےلئے اراضی دینے والے مالکان کے باین جو معاہدہ ہوا ہے اس کی کوئی قانونی اور آئینی حیثیت نہیں ہے جبکہ بھرتی کے قوانین کے مطابق خالی آسامی کو مشتہر  کیا جائے گا اور قانونی ضابطے پورے کرنے کے بعد بھرتیاں کی جائیں گی اور یہ اقدام آئین کے آرٹیکل ستائیس کے منافی ہے کیونکہ سپریم کورٹ پاکستان انیس سو تریانوے میں یہ فیصلہ جاری کر چکا ہے کہ تمام آسامیاں اوپن میرٹ کے تحت پر کی جائیں گی ۔

عدالت نے محکمہ تعلیم سے جواب طلب کیاکہ اراضی مالکان کے ساتھ کس قانون کے تحت معاہدہ کیا جاتا ہے اور اس کی قانونی حیثیت کیا ہے اور سماعت ملتوی کرتے ہوئے چودہ روز میں جواب طلب کرلیا۔