10-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے محکمہ ٹرانسپورٹ  کے تحت کمپیوٹرائزڈ ڈرائیونگ لائسنس پراجیکٹ کے چھتیس ملازمن کی مشروط بحالی کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کور ٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے چھتیس ملازمین کی جانب سے دائر توہین عدالت کی درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ صوبائی حکومت نے دو ہزار سات میں کمپیوٹرائزڈ  ڈرائیونگ لائسنس کے اجراء کا منصوبہ شروع کیا جس کےلئے درخواست گزاروں کی بھرتی کی گئی  اور دو ہزار پندرہ میں اس پراجیکٹ کو ریگولر بجٹ دیا گیا تاہم ان ملازمین کو ملازمت سے برطرف کردیا گیا جس کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں دائر رٹ پر عدالت نے انہیں مستقل کرنے کا حکم دیا لیکن تاحال ان ملازمین کی بحالی نہیں کی جا رہی ہے جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ۔ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل نے عدالت کو بتایا کہ پراجیکٹ کی مستقلی کے بعد ملازمین کی اہلیت ایف اے سے بڑھائی گئی ہے جبکہ پشاو رہائی کور ٹ کے فیصلے کو سپریم کور ٹ میں چیلنج کیا گیا ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ درخواست گزاروں کی مستقلی سپریم کورٹ کے فیصلے کے روشنی میں کرے اگر فیصلہ صوبائی حکومت  کے حق میں آگیا تو اس وقت ان ملازمین کو فارغ کیا جا سکتا ہے ۔