20-02-2017

شماریات ڈویژن  نے کہا ہے کہ حکومت نے مردم شماری کیلئے بھرپور تیاری کی ہے۔ تمام سٹاف قومی جذبے کے تحت اس قومی فریضے کو انجام دینے کیلئے تیار ہے۔ مردم شماری میں شفافیت اور معیار یقینی بنائیں گے اور مردم شماری کو ہر حال میں مکمل کیا جائے گا۔  دوسری طرف وفاقی ادارہ شماریات کے سربراہ آصف باجوہ  کا کہنا ہے  کہ موجودہ امن و امان کی صورتحال سے مردم شماری متاثر نہیں ہو گی۔ 15 مارچ کو مردم شماری کے پہلے فیز کا آ غاز کیا جائے گا، تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ مردم شماری کے حوالے سے اقوام متحدہ کی سفارشات پر عمل کیا جائے گا۔ پاک فوج کے 2 لاکھ اہلکار مردم شماری میں حصہ لیں گے۔ سکیورٹی پاک فوج اور مقامی پولیس فراہم کرے گی۔ 15 مارچ سے 17 مارچ تک خانہ شماری کی جائے گی اور 18 مارچ کو مردم شماری شروع کی جائے گی۔ مردم شماری  پر 30 ارب کے اخراجات ہوں گے۔60 دن کے اندر کل آبادی، مردوں، خواتین اور خواجہ سراؤں کے اعدادوشمار پر مشتمل ابتدائی رپورٹ مکمل کی جائے گی۔ 2018ء کے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت ہوں گے۔ مردم شماری کے نتائج کی بنیاد پر قومی اسمبلی کی نشستیں تقسیم ہونگی اور نتائج کی بنیاد پر ہی نئی حلقہ بندیاں اور صوبائی و علاقائی کوٹہ تیار ہوگا۔