04-04-2017

پشاور ہائی کورٹ نے مردم شماری کے فارم میں چترال میں مقیم کالاش برادری کے مذہب کا خانہ شامل کرنے کا حکم دے دیا ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ  جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے کالاش برادری کے ارکان یوک رحمت اور وزیر دارہ کی درخواست پر سماعت کے بعد محکمہ شماریات کو حکم جاری کیا کہ چترال کے ان علاقوں میں ابھی مردم شماری نہیں ہوئی اس لیے یہاں مردم شماری کے آغاز سے قبل ہی فارم میں کالاش مذہب کو شامل کرنے کو یقینی بنایا جائے۔حکومت کی جانب سے پیروی کرنے والے ڈپٹی اٹارنی جنرل نے عدالت کو یقین دلایا کہ مردم شماری کے فارم میں کالاش مذہب کے نام کا خانہ شامل کیا جائے گا۔

درخواست گزاروں کے وکیل کا کہنا تھا کہ کالاش برادری چترال میں آباد ہے جہاں مردم شماری کا آغاز 25 اپریل سے شروع ہونے والے دوسرے مرحلے میں ہوگا۔مردم شماری کے فارم میں پاکستان میں موجود تمام بڑی اقلیتوں کو شامل کیا گیا لیکن کالاش مذہب کو شامل نہیں حالانکہ اس مذہب کے پیروکار طویل عرصے سے یہاں پر مقیم ہیں۔

خیال رہے کہ اس سے قبل سکھ برادری نے اپنے مذہب کو فارم میں شامل نہ کرنے کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا جس پر عدالت نے سکھ مذہب کا خانہ مردم شماری فارم میں شامل کرنے کا حکم دیا تھا۔

 واضح رہے کہ پاکستان میں طویل عرصے بعد گزشتہ ماہ مردم شماری کا آغاز ہوا تھا جس کو دو مرحلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔حکومت کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق ملک کے 147 میں سے 62 اضلاع میں پہلے اور 85 اضلاع میں دوسرے مرحلے میں مردم شماری ہوگی۔