23-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نے تیرہ سال بعد مستقل ہونے والے ملازمین کی عارضی مدت پنشن میں شامل نہ کرنے کے خلاف دائر رٹ پر سیکرٹری فنانس سے جواب طلب کر لیا ہے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اورجسٹس ارشد علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے  محکمہ تعلیم چترال کے بدر عالم کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار انیس سو پچانوے میں محکمہ تعلیم میں عارضی بنیادوں پر بطور درجہ چہارم بھرتی کیا گیا اور دو ہزار اٹھ میں اسے اسی پوسٹ پر مستقل کیا گیا تاہم محکمہ خزانہ نے درخواست گزار کی عارضی ملازمت کو پنشن میں شامل کرنے سے انکار کر دیا ہے حالانکہ ویسٹ پاکستان پنشن رولز کے تحت یہ عرصہ بھی پنشن کےلئے شمار ہوتا ہے ۔لہذا محکمہ خزانہ کے اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے ۔