08-05-2017

پشاور ہائی کورٹ نے مضاربہ اور سیونگ سرٹیفیکیٹ کی مد میں لوگوں سے کروڑوں روپے خورد برد کرنے الزام میں گرفتار دو ملزموں کی درخواست ضمانت خارج کرتے ہوئے نیب کو دو ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ملزمان کی جانب سے دائر علیحدہ علیحدہ ضمانت درخواستوں کی سماعت کی ۔

ملزم روشن دین کی جانب سے دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ملزم پر الزام ہے کہ اس نے مضاربہ کی آڑ میں اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ ملکر نجی منی ایکسچینج کمپنی کھول کر سادہ لوح افراد سے ایک کروڑ چوراسی لاکھ روپے بٹورے ہیں ۔ تاہم ملزم کو دیگر ساتھیوں سمیت گزشتہ دو سالوں سے زیر حراست ہیں لہذا ملزم کو ضمانت پر رہا کیا جائے ۔اسی طرح ملزم منصور کی جانب سے دائر ضمانت درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ ملزم پر  الزام ہے کہ اس نے ہری پور کے نجی بنک میں بحیثیت کیشیئر   دو سال قبل سادہ لوح افراد سے سیونگ سرٹیفیکیٹ کی مد میں لاکھوں روپے کی خورد برد کی ہے اور وہ بھی زیر حراست ہے لہذا اس کی ضمانت درخواست منظور کی جائے ۔

عدالت نے دونوں ملزمان کی ضمانت درخواستیں مسترد کرتے ہوئے نیب کو ان کے کیسز کی ٹرائل دو ماہ میں مکمل کرنے کا حکم دیا ۔