31-03-2017

پشاور ہائی کورٹ نے مقررہ حد سے کم رقم پر ڈی او آر ایبٹ آباد سے رضاکارانہ واپسی کی منظوری دینے پر چیئرمین اور ڈی جی نیب خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا ہے ۔

جسٹس روح الاآمین خان اور جسٹس غضنفر علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ درخواست گزار محکمہ مال ایبٹ آباد میں ڈی او آر تعینات تھا اور نیب نے اس پر چیاسٹھ لاکھ روپے مالیت کے غیر قانونی اثاثے بنانے کا الزام عائد کیااور بعد میں اسی رقم کی رضاکارانہ واپسی کی منظوری دے دی حالانکہ چیئرمین نیب کے پاس پانچ کروڑ روپے سے کم مالیت کا ریفرنس دائر کرنے کا اختیار ہی حاصل نہیں ہے لہذا درخواست گزار کے ساتھ نیب کے ساتھ رضاکارانہ واپسی کی منظور ی کالعدم قرار دی جائے