27-09-2017

پشاور ہائی کورٹ  نے ملٹری کورٹ  سے سزائے موت کی سزا پانے والے ملزم کی سزا پر عمل درآمد روکتے ہوئے وزارت داخلہ اور دفاع سے جواب طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس روح الاآمین خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزارہ جمیدہ بی بی کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزارہ کا بیٹا افتاب الدین سوات کا رہائشی ہے جسے دو ہزار دس میں جب وہ سال اول کا طالب علم تھا کو سیکیورٹی فورسز کے حوالے کیا گیا اور اب اکیس ستمبر دو ہزار سترہ کو انہیں اخبارات کے زریعے پتہ چلا کہ آرمی چیف نے اس کے بیٹے کی سزائے موت کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے جبکہ وہ سات سال سے سیکیورٹی فورسز کی تحویل میں تھا اور انہیں اس حوالےسے کچھ علم نہیں ۔لہذا ملزم کو صفائی کا موقع نہیں دیا گیا اس لئے فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ ملٹری کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے