19-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے ملٹری کورٹ کے احکامات معطل کرتے ہوئے سزائے موت کے ملزم کی سزا پر عمل درآمد روک دیا ہے اور اس سلسلے میں وفاقی سیکرٹری دفاع سے ریکارڈ طلب کرلیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی کی سربراہی میں قائم دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ سوات کے رہائشی ملزم شیر علی کو تین سال قبل سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا تھا اور اس کے خاندان کو چند دن قبل پتا چلا کہ اس کو ملٹری کورٹ کی جانب سے سزائے موت سنائی گئی ہے ۔

عدالت نے دائر رٹ پر ابتدائی دلائل کے بعد ملٹری کو رٹ کی سزا پر عمل درآمد روکتے ہوئے متعلقہ حکام سے ریکارڈ طلب کرلیا۔