04-05-2018

پشاورہائی کورٹ نے ملٹری کورٹ کو ایکسیئن واپڈا کے قتل کیس کی سماعت سے روکتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے جواب طلب کرلیا ہے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس ایوب خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے درخواست گزار شہر یار کیانی کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ دس ستمبر دو ہزار سولہ کو تھانہ سی ٹی ڈی ایبٹ آباد میں ایک ایف آئی آردرج کی گئی جس میں مدعی مقدمہ نے موقف اپنایا کہ اس کے شوہریوسف حسین طوری جو کہ واپڈا کے ایکسئین تھا کو ملزموں نے قتل کرکے فرار ہوگئے جس کے بعد اس کیس میں سترہ فروری دو ہزار سترہ کو ملزم تیمور فریدون کو گرفتار کیا گیا اور دوران تفتیش بتایا کہ واردات میں استعمال ہونے والا پستول درخواست گزارنے دیا تھا حالانکہ درخواست گزار کے پستول اور ملزم سے برآمد ہونے والے پستول میں فرق ہے۔ دوسری طرف اے ٹی سی ایبٹ آباد نے پچیس اپریل دو ہزار سترہ کو اپنے فیصلے میں بتایا کہ یہ کیس چونکہ ملٹری کورٹ منتقل ہوا ہے اس بناء پر درخواست گزار کو ضمانت درخواست کی سماعت کا اختیار حاصل نہیں ہے ۔ حالانکہ ملٹری کورٹ کو مقدمہ بھجوانے کا کوئی جواز نہیں بنتا کیونکہ یہ ایک عام قتل کا مقدمہ ہے۔عدالت نے ملٹری کورٹ میں مقدمے کی سماعت روکتے ہوئے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے جواب طلب کرکے سماعت ملتوی کردی ۔