14-09-2017

پشاورہائی کورٹ نے ملٹری کورٹ کی جانب سے پولیس کانسٹیبل کو دی جانے والی سزائے موت کا فیصلہ معطل کرتے ہوئے سزا پر عمل درآمد روک دیا اور وزارت دفاع و داخلہ کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کرلیا ہے۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزار محکمہ پولیس میں کانسٹیبل تعینات تھا جو دو ہزار تیرہ میں ڈیرہ اسماعیل خان سے ٹانک آرہا تھا تو راستے میں سیکیورٹی فورسز نے اپنی حراست میں لیا اور پھر اس کا کچھ پتہ نہ چلا جبکہ حال ہی میں انہیں معلوم ہوا کہ وہ لکی مروت انٹرمنٹ سنٹر میں تھا اور ملٹری کورٹ نے اسے سیکیورٹی فورسز پر حملے اور تین شہروں کے قتل کے جرم میں سزائے موت کا حکم سنایا ہے جس کا کوئی ریکارڈ بھی نہیں اور نہ ہی درخواست گزار کو صفائی کا موقع دیا گیا ہے کیونکہ شہریوں کے قتل ہونے کے مقدمے کی تفتیش سیکیورٹی فوسز نہیں بلکہ پولیس حکام کرے گی اور یہ مقدمہ بھی عام عدالت میں سنا جائے گا لہذا ملٹری کورٹ کے فیصلے کو کالعدم قرار دیا جائے۔