08-06-2017

پشاور ہائی کورٹ نے وفاقی حکومت سے ملک بھر میں کام کرنے والی بین الااقوامی این جی اوز کا ریکارڈ اور وضاحت طلب کی ہے کہ یہ این جی اوز کن قوانین کے تحت ملک کے اندر کا م کر رہی ہیں۔

جسٹس روح الاآمین خان اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ ایم آئی کی جانب سے سیکورٹی کلیئرنس نہ ملنے پر ایف ڈی ایم اے نے درخواست گزار کی این جی او کو فاٹا میں کام کرنے سے روک دیا ہے حالانکہ ایم آئی لیٹر میں صرف سیکیورٹی وجوہات بیان کی گئی ہے اور دیگر کوئی اور وجہ بیان نہیں کی گئی ہے حالانکہ اس سے قبل درخواست گزار کو فاٹا میں کام کرنے کےلئے بیالیس مرتبہ این او سی جاری کیا گیا ہے اور ان کی این جی او میں تین سو سے زائد پاکستانی کام کر رہے ہیں اور تمام مقامی افراد ہیں اس طرح ان پر پابندی کا کوئی جواز نہیں بنتا لہذا اسے کالعدم قرار دیا جائے ۔