15-02-2017

پشاورہائی کور ٹ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران شہید ہونے والے سات خاصہ داروں کے خاندانوں کو مکمل شہداء پیکج دینے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔

چیف جسٹس پشاو رہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس محمد ایوب خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے  دائر رٹ درخواستوں کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ خاصہ دار فورس کے اہلکارمراد خان ، فرہاد خان، ملتانے ، ابن یامین ، ذاکر خان ، انور خان اور نصیر خان مہمند ایجنسی کے علاقہ پنڈیالے میں بطور خاصہ دار فورس تعینات تھے اوراٹھارہ مارچ دو ہزار سولہ کو لیٹی چیک پوسٹ  پر ڈیوٹی کے دوران عسکریت پسندوں نے حملہ کیا جس میں وہ شہید ہوگئے ۔ عدالت کو بتایا گیا کہ پولیٹکل انتظامیہ نے صرف ذاکر خان کے لواحقین کو شہید پیکج ادا کیا تاہم باقی ساتھیوں کو معاون خاصہ دار قار دیتے ہوئے شہید پیکج دینے سے انکار کر دیا جو کہ غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ باقی شہداء کے لواحقین کو بھی مکمل شہید پیکج دینے کے احکامات جاری کئے جائیں

عدالت نے قرار دیا کہ شہید ہونے والے اہلکار سرکاری ڈیوٹی انجام دے رہے تھے اور وہ بھی دفاع کرتے ہوئے شہید ہوئِے اس بناء تمام شہداء یکساں شہید پیکج کے حقدار ہیں ۔ فاضل عدالت نے رٹ درخواستیں منظور کر لی اور درخواست گزاروں کو مکمل شہید پیکج ادا کرنے کا حکم دیا ۔