16-08-2017

سپریم کورٹ کے جج  جسٹس دوست محمد خان نے قتل کے مقدمہ میں ریمارکس دئیے ہیں کہ ملک میں دو وزرائے اعظم کا قتل اب تک معمہ بنا ہوا ہے ،حلف لے کر جھوٹ بولنے سے ہی ملک پر عذاب نازل ہوتا ہے ، ناقص تفتیش پر تفتیشی افسر جیل میں ہونا چاہیے ،  جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ  بنچ نے قتل کے مقدمے میں مجرم غلام مصطفی کی بریت کے لئے دائر درخواست کی سماعت کی  ۔ جسٹس دوست محمدخان  نے ریمارکس دئیے کہ استغاثہ کے نئے نظام سے بہتری کے بجائے خرابی پیدا ہوئی ،قتل کے مقدمات میں قرآن پر حلف لے کر جھوٹ بولاجاتا ہے اور وعدہ خلافی کی جاتی ہے ۔جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ریمارکس دئیے کہ قانون شہادت کے مطابق عدالت اگر مواد میں موجود حقائق سے مطمئن ہوجائے تو فوجداری مقدمات میں حقائق کے مطابق فیصلہ کرسکتی ہے ۔سپریم کورٹ نے حقیقی چچاکوپورے خاندان سمیت قتل کرنے والے مجرم غلام مصطفی کی چھ مرتبہ سزائے موت کو چھ بار عمر قید میں تبدیل کر دیا۔