20-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے صوبے بھر کے پرائیویٹ تعلیمی اداروں کو گرمیوں کی چھٹیوں کے دوران طلباء سے ٹرانسپورٹ کی مد میں فیس کی وصولی کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نجی تعلیمی اداروں کو طلباء و طالبات سے ٹرانسپورٹ کی مد میں فیس کی وصولی روک دی ہے ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پشاور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے دائر دو الگ رٹ درخواستوں کی سماعت کی جس میں عدالت کو بتایا گیا کہ گرمیوں کی تعطیلات کے دوران نجی تعلیمی ادارے طلباء سے مختلف مدوں میں فیس وصول کرتے ہیں جن میں داخلہ فیس ، پروموشن فیس اور ٹرانسپورٹ فیس شامل ہیں حالانکہ جب گرمیوں میں چھٹیاں ہوتی ہیں تو ٹرانسپورٹ فیس لینا کہاں کا انصاف ہے ۔عدالت نے نجی تعلیمی اداروں کو گرمیوں کی تعطیلات کے دوران طلباء سے ٹرانسپورٹ فیس کی وصولی روکتے ہوئے آئندہ سماعت پر   صوبائی حکومت سے وضاحت طلب کی کہ نجی تعلیمی اداروں کی عمارتوں کا کیا معیار ہے اسی طرح عملے کی تعلیمی قابلیت اور تنخواہوں کا معیار کیا ہے ؟ اسی طرح عدالت نے صوبائی حکومت سے نجی سکولوں کی ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام سے متعلق وضاحت بھی طلب کرکے سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی ۔