12-10-2017

پشاور ہائی کورٹ نے نجی سکولوں کے اساتذہ کو لیبر قوانین سے خارج کرنے کی ترمیم کے خلاف دائر رٹ درخواست پر سیکرٹری لیبر خیبر پختونخوا کو جواب جمع کرنے کےلئے دس دنوں کی آخری مہلت دے دی ہے ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس یونس تہیم پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کےد و رکنی بنچ نے ایڈوکیٹ سلیم شاہ کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ صوبائی حکومت نے سال دو ہزار تیرہ میں مزدور اور ملازمین کی کم سے کم اجرت پندرہ ہزار روپے مقرر کرنے کےلئے قانون پاس کیا تھا جس میں نجی سکولوں کے اساتذہ اور دیگر ملازمین بھی شامل تھے تاہم سال دو ہزار پندرہ میں صوبائی حکومت نے اس قانون میں ترمیم کرتےہوئے نجی سکولوں کے اساتذہ کو اس سے خارج کر دیا ہے اور اس قانون کو صرف انڈسٹریز تک محدود کر دیا ہے جس کی وجہ سے آج اساتذہ اور ملازمین کو کہی پر آٹھ ہزار تو کہی پر پانچ ہزار روپے تنخواہ دی جاتی ہے جو کہ ان کے ساتھ ناانصافی ہے لہذا حکومت کے اس ترمیم کو کالعدم قرار دے دیا جائے ۔