28-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریوں کی جانب سے ڈینگی سے متاثرہ مریضوں سے ایک ٹیسٹ کے عوض ہزاروں روپے وصول کرنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناجائز قرار دیا ہے اور اس سلسلے میں ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل صحت کی سربراہی میں تمام پرائیویٹ لیبارٹریوں اور ہسپتالوں کے نمائندون پر مشتمل فوری طور پر اجلاس منعقد کرنے کا حکم دیا ہے کہ ڈینگی ٹیسٹ کی مناسب فیس مقرر کی جائے تاکہ عوام کو ریلیف مل سکے ۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس محمد غضنفر خان پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے یہ احکامات سیف اللہ ایڈوکیٹ کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کے دوران دیئے ۔دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ ڈینگی کے مریضوں سے ٹیسٹوں کی مد میں بھاری بھر کم فیس وصول کی جا رہی ہے جو کہ ناجائز ہے ۔ درخواست گزار نے عدالت کوبتایا کہ اس سلسلے میں وفاقی حکومت نے ہر نجی لیبارٹری اور ہسپتالوں کے ساتھ ایک اہم دستاویز پر معاہدہ کیا ہوا ہوتا ہے جس میں اس قسم کی وباء پھیلنے سے تمام سرکاری اور نجی ہسپتالوں اور لیبارٹریز عوام کو مفت ریلیف دینے کے پابند ہوں گے جس پر فاضل عدالت نے اس دستاویز کو اگلی پیشی پر عدالت میں پیش کرنے کا حکم بھی دیا ۔