08-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے نوشہرہ اور رسالپور میں دس کنال رہائشی اراضی کی لیز قواعد کے برعکس منسوخ کرنے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ  حکام کو  حکم دیا کہ درخواست گزار کے جواب پر پندرہ یوم کے اندر فیصلہ دیا جائے ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کور ٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے چوہدری محمد اسلم نامی درخواست گزار کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ انیس سو ننانوے میں درخواست گزار  کو سروے نمبر ایک سو چوراسی اور تین سو اکہتر  رسالپور اور نوشہرہ کینٹ میں الاٹ ہوئی اور اسی کو بنیاد بنا کر باقاعدہ طور پر انتقال بھی ہوا لیکن چوبیس جون دو ہزار تیرہ اور انہیں مئی دو ہزار دس کو یہ لیز منسوخ کر دی گئی اور نوشہرہ  اراضی سے متعلق ایم ای او نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ یہ اراضی حکومت کی منظوری کے بعد الاٹ نہیں ہو سکتی جبکہ رسالپور کی اراضی سے متعلق جو ٹرانسفر آرڈر پیش کیا گیا وہ جعلی ہے جو کہ درست نہیں کیونکہ حقائق کا بالائے طاق رکھ کر یہ اقدام اٹھایا گیا ہے ۔

عدالت نے لیز کی منسوخی کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو پندرہ روز کے اندر فیصلہ کرنے کے احکامات جاری کردیئے ۔