06-09-2017

پشاورہائی کورٹ نے نوشہرہ میڈیکل کالج کے 102طلباء کو گیارہ ستمبر سے شروع ہونے والے سال اول پروفیشنل کے امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دے دی جبکہ رٹ پٹیشن گجوخان میڈیکل کالج کی اسی نوعیت کی رٹ کے ساتھ یکجا کردی۔

جسٹس وقاراحمدسیٹھ اور جسٹس اعجازانورپرمشتمل دورکنی بنچ  نے نوشہرہ میڈیکل کالج کے 102طلباء کی جانب سےدائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی  جس میں عدالت کو بتایاگیاکہ نوشہرہ میڈیکل کالج سرکاری کالج ہے جس کے قیام سے قبل تمام ضابطے پورے کئے گئے اور کالج کاخیبرمیڈیکل یونیورسٹی سے الحاق بھی ہوچکاہے اور پاکستان میڈیکل اینڈڈینٹل کونسل اس کی منظوری بھی دے چکی ہے  تاہم وفاقی وزارت صحت سے نوٹی فکیشن ہوناباقی ہے اوراس صورت حال کی بناء پرخیبرمیڈیکل یونیورسٹی کالج کے سال اول پروفیشنل کے طلباء کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت نہیں دے رہے جس کی بناء طلباء کاقیمتی سال ضائع ہونے کااندیشہ ہے لہٰذاانہیں امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے کیونکہ پشاورہائی کورٹ قبل ازیں اسی نوعیت کی رٹ درخواستوں پر دیگرمیڈیکل کالجوں کے طلباء کو اجازت دے چکے ہیں۔ عدالت نے ابتدائی دلائل کے بعد طلباء کو امتحان کی اجازت دیتے ہوئے پی ایم ڈی سی  اور خیبر میڈیکل یونیورسٹی سے جواب طلب کر لیا ۔