23-02-2017

سپریم کورٹ نے 9 سالہ بچی سے بداخلاقی کے مجرم کی عمر قید کی سزا کے خلاف اپیل مستردکرتے ہوئے قرار دیا کہ کمسن سے بداخلاقی کرنے والے مجرم کسی رحم کے مستحق نہیں۔  عدالت نے مجرم کو شوکاز نوٹس جاری کیاکہ کیوں نہ مجرم کی سزا بڑھا دی جائے۔

جسٹس منظور احمد ملک کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ نے مجرم وقاص احمد کی بریت اپیل پر سماعت کی جس میں  موقف اختیار کیا گیا کہ سیالکوٹ پولیس نے مدعی محمد عمران کی درخواست پر 9 سالہ وجہیہ سے زیادتی کا بے بنیاد مقدمہ درج کر کے چالان ٹرائل کورٹ میں پیش کیا، ٹرائل کورٹ نے ڈی این اے کئے بغیر  سزائے موت کاحکم سنا دیا اور ہائی کورٹ نے مجرم کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کر دی۔ عدالت نے ریمارکس دیئے کہ قانون میں کہیں نہیں لکھا کہ بداخلاقی کیس میں ڈی این اے ٹیسٹ لازمی کروایا جائے، مجرم کے وکیل نے استدعا کی کہ مجرم کی عمرقید کی سزا ختم کر کے بری کیا جائے ۔