19-04-2017

پشاور ہائی کورٹ نے وزیر اعلی خیبر پختونخوا اور صوبائی وزیر کی جانب سے دو نومبر دو ہزار سولہ کو اسلام آباد لاک ڈاون کے موقع پر پنجاب پولیس کی جانب سے پاکستان تحریک انصاف کے کارکنوں پر لاٹھی چارج اور مقدمات کے اندراج کے خلاف دائر رٹ پر درخواست گزاروں سے جواب الجواب طلب کرتے ہوئے سماعت پندرہ مئی تک ملتوی کر دی ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اورجسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں وزارت داخلہ کی جانب سے تحریری جواب پیش کیا گیا اور موقف اختیار کیا گیا کہ پی ٹی آئی کی قیادت کی جانب سے رٹ پٹیشن دائر کرنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اور یہ پٹیشن ناقابل سماعت ہے جبکہ جو ایف آئی آر درج کی گئی ہے وہ پنجاب کے تھانے ہیں اور وہ تمام تھانے پشاور ہائی کورٹ کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے اور پشاور ہائی کورٹ میں اس کے خلاف رٹ دائر نہیں کی جا سکتی اس بناء پر اسے خارج کیا جائے ۔عدالت نے درخواست گزار کے وکیل کے نہ ہونے پر جواب الجواب طلب کرتے ہوئے رٹ پٹیشن پر سماعت پندرہ مئی تک ملتوی کردی ۔