17-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے  پشاور کے مختلف نیبر ہوڈ کونسلوں سے دو سو پینتالیس نائب قاصدوں کی برطرفی کے احکامات کالعدم قرار دیتے ہوئے انہیں بحا ل اور  ان ملازمین کو آٹھ ماہ کی  بقایا تنخواہیں فوری طور پر ادا کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں

جسٹس قیصر رشید اورجسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزاروں کو ضلعی انتظامیہ نے پشاور کے مختلف ویلیج کونسلوں اور نیبر ہوڈ کونسلوں میں نائب قاصد بھرتی کیا اور اٹھائیس جو ن کو ان کے تقررنامے جاری ہوئے تاہم تعیناتی کے کچھ ہی عرصہ بعد پشاور سے تعلق رکھنے والے اراکین صوبائی اسمبلی کی ہدایت پر ان کے تقررناموں کا اجراء روک دیا گیا اس کے باوجود درخواست گزار اپنی ڈیوٹی انجام دیتے رہے جبکہ اس سے قبل عدالت عالیہ نے ملازمین کے حق میں حکم امتناعی بھی جاری کر چکی ہے ۔

عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ملازمین کی دائر رٹ پٹیشن منظور کر لی اوران کی بحالی کے احکامات جاری کرتےہوئے ان ملازمین کو گزشتہ آٹھ ماہ کی تنخواہیں ادا کرنے کا حکم بھی دیا ۔