10-08-2017

پشاور ہائی کور ٹ نے نیب خیبر پختونخوا کے اہلکاروں کی سینارٹی سے متعلق دائر رٹ درخواست پر متعلقہ حکام سے جواب طلب کرلیاہے۔

جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس اشتیاق ابراہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اختیار کیا گیا کہ درخواست گزار قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا میں اسسٹنٹ ڈائریکٹرز کی پوسٹوں پر تعینات ہیں جنہوں نے ضیاء اللہ طورو کی مستقلی کو چیلنج کیا تھا کیونکہ اس فیصلے سے درخواست گزاروں کی سینارٹی متاثر ہوتی ہے ، بعد میں ضیاء اللہ طورو کی مستقلی کا فیصلہ نیب نے سپریم کورٹ  میں چیلنج کیا جوزائد المیعاد کی بنیاد پر مسترد کردیا گیا ۔ عدالت میں موقف اپنایا گیا کہ پشاور ہائی کورٹ نے ضیاء اللہ طورو کی مستقلی نیب کی اہلکار عالیہ رشید کے فیصلے کی روشنی میں کی اب سپریم کورٹ نے عالیہ رشید کے ہائی کورٹ فیصلے کا کالعدم قرار دیا ہے اس بناء پر ضیاء اللہ طورو کے ہائی کورٹ کے فیصلے کو بھی کالعدم قرا ر دیا جائے ۔

عدالت نے سوال اٹھایا کہ ہائی کورٹ کا ایک فیصلہ عدالت عالیہ ہی کے فیصلے کی روشنی میں کیا گیا ہے اور ضیاء اللہ طورو کا فیصلہ سپریم کورٹ نے بحال رکھا ہے ایسی صورت میں عدالت عالیہ کس حد تک مداخلت کی مجاز ہے اور کیا اس فیصلے پر نظر ثانی کر سکتی ہے ۔

اس سوال کے ساتھ فاضل دو رکنی بنچ نے رٹ پٹیشن کی سماعت اگلی پیشی تک ملتوی کردی ۔