29-09-2017

پشاور ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ نیب پچاس ہزار اور ایک لاکھ روپے کے کیسز کی خود انکوائری کرتا ہے جبکہ میگا کرپشن سکینڈل انکوائری کےلئے دیگر محکموں کو بھجوا دیتا ہے ، نیب خود ان کیسز کی انکوائری کیوں نہیں کرتا ، عدالت یہ ضروری جاننے کی کوشیش کرے گی کہ بلی کس طرح تھیلے سے باہر آئے گی ۔

جسٹس قیصر رشید اور جسٹس یونس تہیم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ڈی جی پی ڈی اے سلیم حسن وٹو کی جانب سے دائر رٹ درخواست کی سماعت کی اور کرپشن کیسز پر کاروائی کی بجائے دیگر صوبائی محکموں کو بھجوانے پر چیئرمین اور ڈی جی نیب سے وضاحت طلب کر لی ۔