26-01-2017

پشاور ہائی کورٹ نے نیب کی تفتیش کے طریقہ کار کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر نیب کے چیئرمین اور ڈی جی نیب خیبر پختونخوا سے سات یوم میں جواب طلب کر لیا ہے ۔

جسٹس سید افسر شاہ اور جسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ نیب خیبر پختونخوا قومی اسمبلی کے حلقہ این اے انتیس اور این اے تینتیس دیر بالا  میں ترقیاتی منصوبوں سے متعلق  مارچ دو ہزار چودہ سے تحقیقات کر رہی ہے جبکہ   نیب قوانین کے تحت تفتیش کےلئے زیادہ سے زیادہ مدت چار ماہ مقرر ہے  اور ان حلقوں  کے ترقیاتی منصوبوں کی تحقیقات دو ہزار چودہ سے جاری ہے  اور نیب کی تحقیقات کے باعث متعدد ٹھیکدار  جاری منصوبے ادھورے چھوڑ  کر جا چکے ہیں  جس کے باعث قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔لہذا نیب کی اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے ۔