20-09-2017

قومی احتساب بیورو خیبر پختونخوا نے قبائلی علاقہ جات میں واقع ماربل فیکٹریوں سمیت دیگر کارخانوں کو بجلی کی مد میں بھجوائے جانے والے  کروڑوں روپے کے نوٹس واپس لے لئے ہیں جس پر پشاور ہائی کورٹ نے اس کے خلاف دائر رٹ درخواستیں نمٹا دیں ہیں۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ درخواستوں کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ درخواست گزاروں کے ماربل اور دیگر کارخانے قبائلی علاقہ جات میں واقع ہیں اور وہ پیسکو کوک فی کارخانہ چارلیس ہزار روپے کے حساب سے بجلی کا بل ادا کرتے ہیں تاہم نیب حکام نے انہیں پیسکو ڈیفالٹر قرار دیتے ہوئے کروڑوں روپے کے نوٹس جاری کئے جس کا کوئی جواز نہیں بنتا لہذا اس نوٹس کو کالعدم قرار دیا جائے ۔

دوران سماعت نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کوبتایا کہ چیئرمین نیب نے اس حوالے سے ایک نوٹی فیکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت پیسکو کے تمام کیسز واپس بھجوادیئے گئے ہیں اور اب نیب ان کارخانوں کے خلاف کسی قسم کی کاروائی نہیں کر رہا ہے جس پر فاضل عدالت نے دائر درخواستیں نمٹا دیں ۔