02-01-2017

پشاور ہائی کورٹ نے نیپرا کو وزارت پانی و بجلی کے ماتحت لانے کے حکومتی فیصلے کے خلاف حکم امتناعی جاری کردیا اور وفاق سے 15 دن میں جواب طلب کرلیا۔

 چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے نیپرا کو وزارت پانی و بجلی کے تحت کرکے اس  کی خودمختاری ختم کرنے کے خلاف سینیٹر نعمان وزیر  کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی ۔

سینیٹر نعمان وزیر نے نیپرا کی خودمختاری ختم کرنے کے وفاق کے فیصلے دائر رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے انیس دسمبر دو ہزار سولہ کو ایک نوٹی فیکیشن کے ذریعے چار مختلف ریگولیٹری اتھارٹیز  کو ان کی متعلقہ وزارتوں کے تحت کر دیا ہے جس میں نیپرا بھی شامل ہے جبکہ ان اداروں کو ایک ایسی وزارت کے ماتحت کردیا گیا جس کے خلاف انہوں نے متعدد فیصلے دیئے چونکہ وفاقی حکومت نیپرا کی خودمختاری سے نالاں ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر کیبنٹ ڈویژن نے نوٹی فیکیشن جاری کیا ہے حالانکہ نہ تو اس حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل اور نہ ہی کیبنٹ سے اس کی منظوری لی گئی لہذا اس اقدام سے نیپرا کی خودمختاری ختم ہو جائے گی اس لئے اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے۔