22-02-2017

پشاور ہائی کورٹ نے  نیپرا  کو وزارت پانی وبجلی کے حوالے کرنے کے خلاف جاری حکم امتناعی میں بائیس مارچ تک توسیع کر دی ۔

چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس یحیی آفریدی اور جسٹس اکرام اللہ خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے نیپرا کو وزارت پانی و بجلی کے تحت کرکے اس  کی خودمختاری ختم کرنے کے خلاف سینیٹر نعمان وزیر  کی جانب سے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی ۔

رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا تھا کہ وفاقی حکومت نے انیس دسمبر دو ہزار سولہ کو ایک نوٹی فیکیشن کے ذریعے چار مختلف ریگولیٹری اتھارٹیز  کو ان کی متعلقہ وزارتوں کے تحت کر دیا ہے جس میں نیپرا بھی شامل ہے جبکہ ان اداروں کو ایک ایسی وزارت کے ماتحت کردیا گیا جس کے خلاف انہوں نے متعدد فیصلے دیئے چونکہ وفاقی حکومت نیپرا کی خودمختاری سے نالاں ہے اور اسی کو بنیاد بنا کر کیبنٹ ڈویژن نے نوٹی فیکیشن جاری کیا ہے حالانکہ نہ تو اس حوالے سے مشترکہ مفادات کونسل اور نہ ہی کیبنٹ سے اس کی منظوری لی گئی لہذا اس اقدام سے نیپرا کی خودمختاری ختم ہو جائے گی اس لئے اس اقدام کو کالعدم قرار دیا جائے۔