02-08-2017

پشاور ہائی کورٹ نے واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز سوات کے چیف ایگزیکٹو  کی تقرری کو کالعدم قرار دیتے ہوئے رٹ درخواست نمٹا دی جبکہ صوبائی حکومت  کو از سر نو چیف ایگزیکٹو کی پوسٹ مشتہر کرنے اور میرٹ پر تقرری کو یقینی بنانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

جسٹس اکرام اللہ خان اور جسٹس لعل جان خٹک پر مشتمل دو رکنی بنچ نے واٹر اینڈ سینی ٹیشن سروسز سوات کے چیف ایگزیکٹو پرویز خان کی جانب سے اپنی برطرفی کے خلاف دائر رٹ درخواست کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ درخواست گزار کو مئی دو ہزار سولہ میں پانچ سال کےلئے تمام مطلوبہ کوائف پورے کرنے بعد تعینات کیا گیا اور انہوں نے کمپنی کو چلانے کا باقاعدہ آغاز کیا تاہم صوبائی حکومت نے درخواست گزار کو اکتوبر دو ہزار سولہ میں سیاسی بنیادوں پر ملازمت سے برطرف کر یا حالانکہ وہ گریڈ اکیس کا آفیسر ہے اور وزیر اعلی نے ان کی تقرری تین افراد کے پینل سے کی لیکن انہیں نہ تو نوٹس دیا گیا اور نہ ہی برطرفی کے آرڈر میں ان وجوہات کو بیان کیا گیا جس کے تحت ان پانچ سالہ کنٹریکٹ کو پانچ مہینے بعد ہی ختم کر دیا گیا لہذا یہ اقدام کسی صورت آئینی نہیں ۔

ڈبلیو ایس ایس پی سوات کے وکیل نے موقف اپنایا کہ درخواست گزار پرویز خان کی برطرفی اور محمد شیدا کی تقرری میں تمام قانونی تقاضے پورے کئے کئے ہیں اور قانون کے تحت اگر کوئی چیف ایگزیکٹو برطرف ہو جاتا ہے تو چودہ دن کے اندر اندر نئے چیف ایگزیکٹو کی تقرری لازمی ہے جس کےلئے اشتہار کی ضرورت نہیں اور یہ سب کچھ قانون میں موجود ہے ۔

فاضل عدالت نے صوبائی حکومت کو نئے چیف ایگزیکٹو کے میرٹ پر تقرری کا حکم دے کر سابق چیف ایگزیکٹو کی رٹ نمٹا دی جبکہ موجودہ چیف ایگزیکٹو  کی تقرری بھی کالعدم قرا ر دے دی ۔