16-11-2017

پشاور ہائی کوٰرٹ نے خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی کے سات کے ورسک ڈیم متاثرین کو بجلی کا خالص منافع دینے کا اعلامیہ پیش کر نے پر توہین عدالت درخواست نمٹا دی ہے۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اورجسٹس اعجاز انور پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ورسک ڈیم متاثرین جرگہ اراکین کی جانب سے دائر توہین عدالت درخواست کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ جب ورسک ڈیم تعمیر کیا جا رہا تھا تو صوبائی حکومت نے مقامی افراد کے ساتھ معاہدہ کیا تھآ کہ دس کلومیٹر کے رقبے کے متاثرہ افراد کو ڈیم سے پیدا ہونے والی بجلی کے منافع میں رائلٹی دی جائے گی اور اس حوالے سے حلقہ پی کے سات کےلئے دس فیصد بجلی کے خالص منافع کا حصہ رکھا گیا تھا لیکن یہ منافع پی کے آٹھ اور نو کو بھی ادا کیا جا رہا ہے جس پر پشاور ہائی کورٹ نے بجلی منافع کی شرح پر نظر ثانی کا حکم دیا تھا تاہم واپڈا نے ان احکامات پر عمل درآمد نہیں کیا جو توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے ۔

صوبائی حکومت کی جانب سےعدالت کوبتایا گیا کہ نئے اعلامیہ کے مطابق دس فیصد میں سے ساٹھ فیصد منافع حلقہ پی کے سات کو دیا جائے گا جبکہ باقی حصہ باقی علاقوں پر تقسیم کیا جائے گا جس پر عدالت نے توہین عدالت درخواست نمٹا دی ۔