15-09-2017

پشاور ہائی کورٹ  نے ورکرز ویلفیئر بورڈ کے تمام ملازمین کو ادا نہ کی گئی تنخواہوں کو دس یوم کے اندر اندر ادا کرنے اور ان کی مستقلی سے متعلق گورننگ باڈی کمیٹی کو اپنی سفارشات تیس اکتوبر تک حتمی شکل دینے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

جسٹس وقار احمد سیٹھ اور جسٹس غضنفر علی پر مشتمل دو رکنی بنچ نے ایک سو انیس مختلف رٹ درخواستوں کی سماعت کی جس میں موقف اپنایا گیا کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ملازمین کئی سالوں سے کنٹریکٹ پر ہیں اور ابھی تک انہیں مستقل نہیں کیا جا رہا حالانکہ اس حوالے سے مختلف کمیٹیاں تشکیل دی گئیں جنہوں نے ان کی مستقلی کی سفارش بھی کی تھی لیکن سابقہ ادوار میں ان سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوا جبکہ ان میں  ایسے ملازمین بھی ہیں جن کی کئی ماہ کی تنخواہیں ادا نہیں کی گئیں ۔ اسی طرح ان ملازمین میں وہ بھی شامل ہیں جنہیں بغیر کسی وجہ کے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا جو کہ غیر قانونی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے قرار دیا ہے کہ کوئی بھی محکمہ غیر معینہ مدت کےلئے کسی کو کنٹریکٹ پر نہیں رکھ سکتا اور انہیں مستقل کرنا ہوگا ۔