17-05-2017

سپریم کورٹ نے اسلام آباد کے پمز ہسپتال کو شہید ذوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی سے الگ کرنے اور سرکاری رقم رجسٹرار یونیورسٹی کے ذاتی اکاونٹ میں جمع کرانے کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کرتے ہوئے وزارت کیڈ کو دو ماہ میں رپورٹ پیش کرنے اور ہر تین ماہ بعد پمز کے بنک اکاونٹس کی تفصیلات جمع کرانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں جسٹس عمر عطاء بندیال اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل تین رکنی بنچ دائر درخواستوں کی سماعت کی ۔

دوران سماعت چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ قاون سازی پارلیمنٹ کا اختیار ہے جبکہ پارلیمانی حدود میں مداخلت یا اداروں کو چلانا عدالتی دائرہ اختیار میں نہیں ، عدالت غلطی کی نشاندہی پر مداخلت کر سکتی ہے ۔فاضل عدالت نے پمز ایڈمنسٹریٹر انکوائری کمیٹی کے رو برو پیش ہونے کی ہدایت کی اور کہا کہ بصورت دیگر کیس کو ایف آئی اے کے سپرد کر دیا جائے گا۔فاضل عدالت نے درخواستوں پر مزید سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی۔