04-05-2017

پشاور ہائی کورٹ نے بم دھماکوں اور دہشت گردی کے واقعات کے فوری بعد وزراء اور دیگر سیاسی شخصیات کے ہسپتالوں کے دوروں کے خلاف دائر رٹ پر سیکرٹری ہیلتھ سروسز ، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری اطلاعات خیبر پختونخوا کو نوٹس جاری کرکے جواب طلب کر لیا ہے ۔

جسٹس قیصر رشید اور جسٹس غضنفر علی خان پر مشتمل دو رکنی بنچ نے دائر رٹ پٹیشن کی سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ صوبہ خیبر پختونخوا گزشتہ کئی سالوں میں دہشت گردی سے بہت زیادہ متاثر رہا تاہم جب کہیں بھی دہشت گردی کا واقع پیش آتا ہے تو متاثرہ افراد کو فوری طورپر ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے اور اس دوران وزراء اور دیگر سیاسی شخصیات فوٹو سیشن کے لئے فورا ہسپتال پہنچ جاتے ہیں جس کی وجہ سے سیکیورٹی ادارے ان شخصیات کو سیکیورٹی دینے کےلئے راستے بند کر دیتے ہیں جس سے ہسپتال کے عملہ کو زخمیوں کو طبی سہولیات کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور زخمیوں کے اہل خانہ کو بھی تکلیف اٹھانا پڑتی ہے لہذا فاضل عدالت سے استدعا ہے کہ اس پر پابندی عائد کرنے کے احکامات جاری کئے جائیں ۔