27-04-2018

سپریم کورٹ نے وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی، سابق وزیرِاعظم نواز شریف، سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ قائم علی شاہ اور عابد شیر علی کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواستیں خارج کر دیں۔

چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ درخواست گزار نے موقف اپنایا کہ  سابق وزیرِاعظم نواز شریف کے نااہل ہونے کے بعد وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی نے بیان دیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ وزیرِاعظم نے نیب ریفرنسز کی بات کی۔ نیب ریفرنسز پر بات کرنے سے توہینِ عدالت کیسے ہوئی؟

عدالت نے شاہد خاقان عباسی اور نواز شریف کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواستیں غیر موثر قرار دے کر خارج کر دیں جبکہ سابق وزیرِ اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ کے خلاف درخواست واپس لینے پر خارج کی گئی۔ وزیرِ مملکت عابد شیر علی کے خلاف درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ ان کی ہدایت پر عدالتِ عظمیٰ کی بجلی کاٹی گئی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ یہ توہینِ عدالت کامعاملہ نہیں، درخواست خارج کی جاتی ہے۔