31-07-2017

وزیراعظم کے انتخاب کیلئے تین سو بیالیس کے ایوان زیریں میں ایک سو بہتر ارکان کے ووٹ درکارہوتےہیں۔

میاں نواز شریف کی نشست کھو کر بھی مسلم لیگ ن  ایک سو اٹھاسی ارکان کے ساتھ  تاحال ایوان کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔

اس سادہ اکثریت میں ایک سو سینتالیس عمومی نشستیں، پینتیس مخصوص اور چھ اقلیتی نشستیں شامل ہیں ۔

پاکستان پیپلز پارٹی اڑتیس جنرل، آٹھ مخصوص اور ایک اقلیتی رکن سمیت سیتالیس نشستوں کے ساتھ ایوان کی دوسری بڑی جماعت ہے۔تینتیس ارکان کے ساتھ تیسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف ہے جس کی چھبیس جنرل ، چھ مخصوص اور ایک اقلیتی نشست ہے۔

چوبیس ایم این ایز کے ساتھ ایم کیو ایم ایوان کی چوتھی بڑی جماعت ہے جس کی انیس جنرل ، چار مخصوص  اور ایک اقلیتی نشست ہے ۔تیرہ نشستوں کے ساتھ جے یو آئی ف ایوان کی پانچویں بڑی جماعت ہے جس کے نو جنرل ارکان ، تین مخصوص نشستوں پر اور ایک اقلیتی رکن ہے ۔

پانچ ایم ایز کی حامل مسلم لیگ فکنشنل چار جنرل اور ایک مخصوص نشست کے ساتھ ایوان کی چھٹی بڑی جماعت ہے ۔

چار نشستوں والی جماعت اسلامی تین جنرل اور ایک مخصوص نشست کے ساتھ ایوان کی ساتویں بڑی جماعت ہے ۔دو جنرل اور ایک مخصوص نشست کے ساتھ ایوان میں تین ارکان والی پشتون خوا میپ ایوان کی آٹھویں بڑی جماعت ہے ۔ایوان میں نویں نمبر پر تین پارٹیاں ہے جن کی دو دو نشستیں ہیں۔ان میں نیشنل پیپلز پارٹٰی، مسلم لیگ ق اور عوامی نیشنل پارٹی شامل ہیں ۔ایک ایک ایم این اے کے ساتھ چھ پارٹٰیاں ایوان میں دسویں نمبر پر ہیں ۔جن میں بلوچستان نیشنل پارٹی ، قومی وطن پارٹی شیرپاؤ ، مسلم لیگ ضیاء ، نیشنل پارٹی ، عوامی مسلم لیگ اورعوامی جمہوری اتحاد شامل ہیں۔