22-05-2018

سپریم کورٹ نے وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری  کی جانب سے  توہین عدالت کے مقدمہ کی سماعت کے دوران اپنا بیان قلمبند کرواتے ہوئے تمام تر الزامات سے انکار پر  ان سے گواہوں کی فہرست جمع کرانے کے احکامات جاری کردیئے ہیں ۔

جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس سردار طارق مسعود اور جسٹس فیصل عرب پر مشتمل سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے طلال چوہدری  تو ہین عدالت کیس کی سماعت کی ۔

 عدالتی احکامات پر انہوں نے ضابطہ فوجداری کی دفعہ342 کے تحت اپنابیان قلمبند  کرواتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ میری جس تقریر کی بات کی جارہی ہے وہ میری تقریر ہی نہیں تھی بلکہ صرف پریس ٹاک تھی جسے توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہے،میرے بیانات کو سیاق و سباق سے ہٹ کر نشر کیا گیا ہے ، جن توہین آمیز تقاریر کو ویڈیو ریکارڈ کے طور پر پیش کیا گیا ہے وہ مکمل طور پر پیش نہیں کی گئیں، بلکہ ان میں ترمیم(ایڈیٹنگ) کرکے مرضی کی باتیں نشرکی گئی ہیں ، لہذا  عدالت سے استدعا ہے کہ ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ ختم کیا جائے۔