14-03-2017

وفاقی شرعی عدالت نے سودی نظام کے خاتمے سے متعلق درخواستوں کی سماعت ملتوی کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ عدالت پہلے ربا اور انٹرسٹ (سود) کی تعریف  کے بعد ان مقدمات کے سماعت کے بارے میں اپنے دائرہ اختیار کا تعین کرتے گی تاکہ اس بنیاد پر دوبارہ کیس ریمانڈ ہو کر واپس نہ آسکے ، عدالت نے قرار دیا کہ دونوں الفاظ کی تعریف سامنے آنے تک عدالتی دائرہ اختیار کا تعین نہیں کیا جاسکتا ۔

چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت جسٹس ریاض احمد خان کی سربراہی میں جسٹس ڈاکٹر فدا محمد خان ، جسٹس شیخ نجم الحسن اور جسٹس ظہور احمد شیرانی پر مشتمل چار رکنی بنچ نے دائر درخواستوں کی سماعت کی ۔جماعت اسلامی کے وکیل نے اپنے دلائل میں کہا کہ چونکہ شرعی عدالت میں کوئی آئینی شق چیلنج نہیں کی گئی اس لئے عدالت یہ مقدمہ سننے کا اختیار رکھی ہے ۔

عدالتی معاون ڈاکٹر سید محمد انور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے عدالت کو انٹرسٹ اور ربا  کی تعریف کرنی چاہیے کیوںکہ کہیں بھی ان الفاظ کی تعریف موجود نہیں ہے ۔ عدالت نے ان کے دلائل سے اتفاق کرتے ہوئے عدالتی معاون کو تیاری کےلئے پندرہ روز کی مہلت دے دی اور سماعت ملتوی کردی ۔