16-02-2017

 پشاور سمیت صوبہ بھر کی وکلاء تنظیموں نے  حیات آباد پشاور میں ججوں کی گاڑی پر خود کش حملہ کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اس دہشت گردانہ اقدام کے خلاف آج  پشاور ہائی کورٹ سمیت صوبہ بھر  کی عدالتوں میں عدالتی امور کا بائیکاٹ کیا اور ہڑتال کی گئی۔

خیبر پختونخوا بار کونسل اور پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کی کال پر ججز کی گاڑی پر دہشت گردانہ حملے کے خلاف صوبہ بھر کی اعلی و ماتحت عدالتوں میں بائیکاٹ کیا گیا وکلاء عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کےلئے پیش نہیں ہوئے ۔ خیبر پختونخوا بار کونسل ، پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ، پشاور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن سمیت وکلاء کے دیگر تنظیموں کی جانب سے واقعہ کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی اور اسے عدلیہ پر وار قرار دیا ۔ وکلاء تنظیموں نے حکومت سے دہشت گردی پر قابو پانے کےلئے ٹھوس اقدامات اٹھانے اور ججوں اور وکلاء کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ وکلاء تنظیموں نے دہشت گردانہ حملے کو غیر انسانی اور بزدلانہ کاروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے بزدلانہ حملوں سے ان کے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے ۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلاء اور ججز معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کے جان و مال کی تحفظ اور سیکیورٹی انتظامات کو یقنی بنائے ۔