12-04-2018

پشاورہائی کورٹ نے وکلاء پر صوبائی حکومت کی جانب سے عائدکی گئی ٹیکس روکنے کی حکم امتناعی برقرار رکھتے ہوئے صوبائی حکومت کو نوٹس جاری کردیاہے۔

جسٹس قیصر رشید اور جسٹس سید ارشد علی پر مشتمل پشاور ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ نے خیبرپختونخوا بار کونسل کی جانب سے دائر  رٹ درخواست کی  سماعت کی جس میں عدالت کوبتایا گیا کہ  خیبر پختونخوا حکومت کی جانب سے فنانس ایکٹ2013 کے تحت وکلاء پر پندرہ فیصد ٹیکس عائد کیا گیا ہے، تاہم ایکٹ کے مطابق ٹیکس اقتصادی سرگرمیاں رکھنے والے اداروں یا افراد سے وصول کی جائے گی۔حالانکہ وکلاء کوئی اقتصادی سرگرمیاں نہیں رکھتے جبکہ ان کا پیشہ انصاف کی فراہمی کا ہے اورانصاف کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے جس میں وکلاء ریاست کی مدد کرتے ہیں۔ لہٰذا ان پر عائد کی جانے والی ٹیکسز کو کالعدم قرار دیا جائے۔

عدالت نے  پچھلی پیشی پر  صوبائی حکومت کو وکلاء سے  ٹیکسز وصول کرنے سے روک دیا تھا، جس کو عدالت نے برقرار رکھا اور صوبائی حکومت کو نوٹس جاری  کردیا۔